بسم اللہ الرحمن الرحیم
**مُوت (پیشاب) کی حقیقت: قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ**
**پیشاب کے احکام و اہمیت کا تعارف**
انسانی جسم کے فضلات میں پیشاب (مُوت) کو شرعی اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی نجاست، پاکیزگی کے طریقوں اور اس سے متعلق غلط عقائد کی تردید واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔ اس مضمون میں ہم مُوت کی حقیقت کو چار اہم پہلوؤں سے واضح کریں گے۔
**۱۔ قرآن کریم میں پاکیزگی کی ہدایات**
– **سورۃ المدثر (آیت ۴):*
> “وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ”
(“اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو”)۔
مفسرین کے مطابق یہ آیت نجاست (بالخصوص پیشاب) سے بچاؤ کی تاکید کرتی ہے ۔
– **سورۃ البقرہ (آیت ۲۲۲):**
> “إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ”
(“بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے”)۔
پیشاب جیسی نجاستوں سے پاکی کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے۔
**۲۔ حدیث نبویؐ کی روشنی میں پیشاب سے احتیاط**
– **حضرت ابن عباسؓ کی روایت:**
> “نبی کریمﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے، فرمایا: ’یہ دونوں عذاب میں ہیں۔ ایک تو چغل خوری کرتا تھا، دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچتا تھا‘” (صحیح بخاری: ۲۱۶)۔
یہ حدیث پیشاب کی نجاست سے لاپرواہی کے سنگین نتائج بتاتی ہے۔
– **طہارت کا عملی طریقہ:**
حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں:
> “نبیﷺ جب پیشاب کرتے تو پانی سے استنجاء فرماتے” (صحیح مسلم: ۲۹۲)۔
اس سے جسم و کپڑوں کی صفائی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
**۳۔ سائنسی و طبی حقائق**
پیشاب میں یوریا، ایمونیا اور دیگر زہریلے مادے پائے جاتے ہیں جو:
– جلد کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
– جراثیم کی افزائش کے لیے مؤثر ماحول فراہم کرتے ہیں۔
– اسلامی تعلیمات میں اس کی نجاست قرار دیے جانے کی حکمت یہی ہے کہ انسان بیماریوں سے محفوظ رہے۔
**۴۔ غلط عقائد اور ان کی تردید**
– **ضعیف روایات کی مثال:**
کچھ لوگ “حضرت آدمؑ کا محمدﷺ کے وسیلے سے دعا کرنا” جیسی غیر ثابت شدہ روایات پیش کرتے ہیں۔ جبکہ محدثین (جیسے امام ابن الجوزی) نے انہیں **من گھڑت** قرار دیا ہے ۔
– **تضاد:** ایسی روایات قرآن (البقرہ: ۳۷) کے صریح بیان کے خلاف ہیں جہاں حضرت آدمؑ کی توبہ کا ذکر ہے۔
– **شرعی اصول:**
> “جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے” (صحیح بخاری: ۱۰۶) ۔
لہٰذا پیشاب سے متعلق بھی غیر مستند باتوں سے گریز ضروری ہے۔
**۵۔ طہارت کے عملی اقدامات**
| عمل | شرعی دلیل |
|——|————-|
| پیشاب کے بعد پانی سے استنجاء | صحیح مسلم: ۲۹۲ |
| کھڑے ہوکر پیشاب نہ کرنا | سنن الترمذی: ۱۲ |
| نجاست سے پاک کپڑے میں نماز | سورۃ المدثر: ۴ |
**نتیجہ و نصیحتیں**
۱۔ **پاکیزگی نصف ایمان ہے:** پیشاب جیسی نجاستوں سے بچاؤ کو دین کا حصہ سمجھیں۔
۲۔ **ضعیف روایات سے بچیں:** ہر روایت کو قرآن اور صحیح احادیث (بخاری، مسلم) پر پرکھیں ۔
۳۔ **عملی تربیت:** بچوں کو ابتدا ہی سے طہارت سکھائیں۔
**حکمتِ شریعت:*
“اللہ تعالیٰ نے جن و انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا” (الذاریات: ۵۶)۔ عبادت کی قبولیت کے لیے پاکیزگی شرط ہے۔
📚 **مزید مطالعہ کے لیے:**
– [قرآن و حدیث کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت](https://www.daruliftaahlesunnat.net) – [ضعیف روایات کی پہچان]
(https://islamicleaks.wordpress.com)
**اے اللہ! ہمیں پاکیزگی اختیار کرنے اور جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین!**